ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / کرناٹکا میں این پی آر نافذ نہ کرنے کا مطالبہ لے کر مظاہرین کی بھٹکل تحصیلدار دفتر کے باہر بھوک ہڑتال ؛ این پی آر کو واپس لینے کا مطالبہ

کرناٹکا میں این پی آر نافذ نہ کرنے کا مطالبہ لے کر مظاہرین کی بھٹکل تحصیلدار دفتر کے باہر بھوک ہڑتال ؛ این پی آر کو واپس لینے کا مطالبہ

Wed, 11 Mar 2020 20:41:48    S.O. News Service

بھٹکل:12؍مارچ(ایس اؤ نیوز) گاندھی جی کے ڈنڈی مارک نمک ستیہ گرہ کی 90برسی کے موقع پر ریاست کے مختلف حصوں سمیت بھٹکل میں بھی ایک دن کی بھوک ہڑتال کی گئی اور تحصیلدار دفتر کے باہر دھرنا دیتے ہوئے این پی آر (نیشنل پاپولیشن رجسٹریشن)  کو نافذ نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ احتجاجیوں نے حکومت سے اس بات کا بھی مطالبہ کیا کہ   کرناٹک میں ودھان منڈل کے ذریعے این پی آر نافذ نہ  کرنے کا اعلان کیا جائے۔

 ہم بھارت کے لوگ ۔ We The People Of India،جوائنٹ ایکشن کمیٹی کرناٹک اور دستور بچاؤ کمیٹی کےزیر اہتمام  12 مارچ جمعرات کو  ریاست کےاکثر  تعلقہ جات اوراکثر ضلعی مقامات پر بھوک ہڑتال کرتےہوئے دھرنا دیا گیا اور ضلعی و تعلقہ انتظامیہ کے آفسران کے ذریعے  سرکارکے نام میمورنڈم پیش کیا گیا۔

بھٹکل میں  جمعرات  صبح گیارہ   بجے سے شام پانچ بجے تک تحصیلدار دفتر کے باہر دھرنا دیتے ہوئے احتجاجیوں نے شہریت ترمیمی قانون کی سختی کے ساتھ مخالفت کی اور کہا کہ اگراین پی آر کو نافذ ہونے سے نہیں روکا گیا تو ہم کسی بھی حال میں این پی آر کے لئے معلومات فراہم نہیں کریں گے۔ احتجاجی اس بات پر بضد تھے کہ  این پی آر کو ریاست کرناٹک میں  کسی حال میں بھی لاگو کرنے نہیں دیں گے اور دستوری حقوق کا  تحفظ کیا جائے  گا۔

دھرنا میں  بھٹکل کے مختلف اداروں کے سو سے زائد  لوگوں نے شرکت کی اور پورے دن دھرنا دیتے ہوئے  بھوک ہڑتال کو مکمل کیا، بعد میں تحصیلدار کو میمورنڈم پیش کیا گیا۔ پھر پانی پیتے ہوئے اپنے احتجاج کو ختم کیا۔ احتجاجیوں نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اس بات کا انتباہ بھی دیا کہ اگر دستور مخالف قوانین کو واپس نہیں لیا گیا تو آئندہ مزید بڑے پیمانے پر احتجاجات ہوں گے اور مزید سخت مظاہرے پیش کئے جائیں  گے۔

کرناٹک کے وزیراعلی کے نام تحصیلدار  کو پیش کئے گئے میمورنڈم میں لکھا گیا ہے کہ گزشتہ تین مہینوں سے ریاست کے ہر شہر اور ہر قصبوں میں  لاکھوں کی تعداد میں عوام احتجاج کررہے ہیں اور شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) ، این پی آر اور این آر سی کی سختی کے ساتھ مخالفت کررہے ہیں، یہ احتجاج اور مظاہرے اب عوامی تحریک میں تبدیل ہوچکے ہیں۔  میمورنڈم میں آسام میں پیش آنے والے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ  کرناٹک میں ایسی صورتحال پیدا ہونے نہ دیا جائے اور ریاست کے ہندو، مسلم ، دلت ، آدی باسیوں کو پناہ گزینوں میں شمار کرنے کا کام نہ کیا جائے۔

میمورنڈم میں واضح کیا گیاہے کہ 15اپریل 2020سے ریاست بھر میں شروع ہونے والی  مردم شماری کے تحت  گھروں کی گنتی کے ہم مخالف نہیں ہیں، لیکن مردم شماری کے نام پر این پی آر کی جانکاری جمع کرنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہئے ۔

میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ اگر ریاست میں این پی آر کو نافذ کیا جاتاہے تو  60فی صد عوام یعنی خواتین، پسماندہ طبقات ، دلت طبقات، خانہ بدوش ، آدی باسی ، پچھڑے علاقوں میں رہنے والے ، مزدور، دیو داسیوں کے بچے ، سیلاب متاثرین، یتیم بچے اور بزرگوں کو اپنے دستاویزات دکھانا ممکن نہیں ہوگا۔ان سب کو جوڑیں تو ریاست  کی  کثیر تعداد میں عوام اپنی شہریت گنوا بیٹھیں گے۔ کیونکہ  ان طبقات کے زیادہ تر عوام کے پاس  شناختی کارڈ تک نہیں ہیں اور این پی آر کے لئے شناختی کارڈ ،آدھارکارڈ، ووٹر کارڈ، ڈارئیونگ لائسنس اور رہائشی سرٹیفکٹ وغیرہ  کو این آر سی کے موقع پر دستاویزات نہیں مانا جارہاہے۔ اس طرح کرناٹک میں این پی آر۔ این آر سی نافذ کرنےکا مطلب تین چوتھائی کنڑیگاس کو جیل بھیجنا ہوگا جب کہ ہمارا یقین  ہے کہ کرناٹک کی حکومت اس  کوپسند نہیں کرے گی کیونکہ  کرناٹک کے عوام نے  ہی آپ کو حکومت کے اعلیٰ مقام پر فائزکیا ہے۔میمورنڈم میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ  کرناٹک کو سب سے بڑی  پناہ گزین ریاست نہ بننے دیا جائے۔

تنظیم صدر جناب ایس ایم پرویز نے آج کے دھرنے کی قیادت کی، تنظیم جنرل سکریٹری مولوی عبدالرقیب ایم جے ندوی،  جوائنٹ ایکشن احتجاجی کمیٹی  کے بھٹکل کے کنوینر  عنایت اللہ شاہ بندری،  نائب کنوینر محمد یونس رکن الدین، انجمن حامئی مسلمین بھٹکل کے صدر اور تنظیم کے سابق صدر ایڈوکیٹ مزمل قاضیا، مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین کےقاضی مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی،  بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے جنرل سکریٹری محمد نصیف خلیفہ،  بھٹکل میونسپالٹی کے سابق صدر محمد صادق مٹا،  دیگر ذمہ داران ڈاکٹر محمد حنیف شباب، ایڈوکیٹ عمران لنکا، جیلانی شاہ بندری، مولوی یاسر برماور ندوی،  محمد صدیق ڈی ایف، ایس ڈی پی آئی کے ضلعی صدر محمد توفیق بیری،  اے پی سی آر کے  قمر الدین مشائخ، یحیٰ رکن الدین، جماعت المسلمین بھٹکل کے جناب محتشم عبدالرحمن جان، مولوی محمد شعیب ندوی، مولوی عبدالعلیم قاسمی،   جالی پٹن پنچایت کے سابق صدر آدم پنمبور، سماجی کارکن نذیر قاسمجی، نثار ٹاپ رکن الدین ،  مُنیر ، عزیز الرحمن ندوی، اور دیگر کئی اداروں کے ذمہ داران اس موقع پر پیش پیش تھے۔

شام پانچ بجے تحصیلدار کو میمورنڈم سونپنے کے بعد جب تحصیلدار نے بتایا کہ وہ احتجاجیوں کی آواز اور ان کا پیش کردہ میمورنڈم سرکار تک پہنچائیں گے،  مظاہرین نے پانی پی کر اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد مظاہرین منتشر ہوئے۔


Share: